ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مائنارٹی آن لائن پری میٹرک اسکالر شپ 2016-17 والدین اورا سکولی تنظیمو ں کو دشواریوں کا سامنا

مائنارٹی آن لائن پری میٹرک اسکالر شپ 2016-17 والدین اورا سکولی تنظیمو ں کو دشواریوں کا سامنا

Mon, 29 Aug 2016 11:34:45    S.O. News Service

بنگلور: 28؍اگست(ایس او نیوز)مورخہ 24اگست2016کو ڈائرکٹر آف مائنارٹیز ، گورنمنٹ آف کرناٹک نے نوٹیفیکیشن جاری کر کے پری میٹرک اسکالر شپ 2016-17کے لئے اس بار عرضیاں آن لائن پُر کرکے ان عرضیوں کی اصل کاپی اسکول کو چار دن کے اندر جمع کرنے کہاتھا اور اسکولی تنظیموں کو ان عرضیوں کی اصل کاپیوں کو اگلے چار دن کے اندر بی ای او کے دفتر میں جمع کرنا تھا۔ یہ شاید ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس حساب سے اسکولی تنظیموں کو ہر روز چند عرضیاں لے کر بی ای او کے دفتر جاناپڑے گا۔ اس نوٹی فکییشن میں دئیے گئے کچھ نئے قوانین سے والدین اور اسکولی تنظیموں کو کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مثال کے طور پر نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ جن طلبا کا نام لسٹ A-میں ہوگا وہ فرش/ نیو ، کیاٹگری میں اپلے کرنا ہوگا اور جن طلباء کانام لسٹB-میں ہوگا وہ رینیول کیاٹگری میں اپلے کرنا ہے۔ ویب سائٹ میں موجود Aاور B لسٹ دیکھنے کے بعد یہ پتہ لگتا ہے کہ طلبا جن کو پچھلے سال اسکالر شپ ملا ہوا ہے ان کانام نہ لسٹ A- میں ہے اور نہ ہی لسٹB-میں ، جب کہ ایسے طلبا کا نام لسٹA-میں ہونا چاہئے تھاتاکہ ایسے طلباء رینیول کیاٹگری میں عرضیاں پُر کرسکیں۔ رائل اکاڈمی پبلک اسکول تھنی سندرا بنگلور کے سکریٹری سید منیر کا کہنا ہے کہ ان کے اسکول میں2015-16 پچھلے سال 242بچوں کو مینارٹی پری میٹرک اسکالر شپ ملا تھا۔لیکن مینارٹی ڈپارٹمنٹ موجود ہ ویب سائٹ میں دئیے گئے لسٹ A-میں صرف12بچو ں کا اور لسٹB-میں41بچوں کا نام ہے ۔ بقیہ قریب 200طلباء جن کا نام دونوں لسٹوں میں نہیں ہے اُن کاکیا ہوگا؟ جبکہ ان بچوں کا نام لسٹB-میں رینیول کیاٹگری میں لازمی طو رپر ہونا چاہئے کیوں کہ ان طلباء کو پچھلے سال پری میٹرک اسکالر ملی ہوئی ہے او رانہیں مستقل آئی ڈی نمبر بھی دیا گیا ہے۔ اور اس سال کا نیا آرڈر جو دوسری ریاستوں کے طلباء جو یہاں پڑھ رہے ہیں وہ پری میٹرک اسکالر شپ کے لئے عرضی نہیں ڈال سکتے ، یہ واقعی بہت اچھا قدم ہے، لیکن سوال ہے کہ یہ کیسے اور کون طے کرے گا کہ کون لوگ دوسری ریاستوں سے ہیں ۔کیونکہ کئی لوگ جو اترپردیش ، بہار ، اڑیسہ او ردیگر ریاستوں کے جو یہاں اپنے بچوں کو پڑھارہے ہیں ان لوگوں کے پاس یہاں کا آدھار کارڈ ، ووٹر آئی ڈی اور کئی لوگوں کے پاس راشن کارڈ بھی موجود ہے ۔ دوسرا یہ کہ کئی تنظیمیں / ایجنٹس نوٹیفکیشن جاری ہونے کے پہلے سے ہی یہ ذمہ داری لے رہے ہیں کہ وہ اسکالر شپ کی عرضیا ں آن لائن پُر کرکے اصل کاپیاں سیدھے وہ خود مینارٹی ڈپارٹمنٹ کے دفتر پہنچادیں گے ۔ کیا مائنارٹی ڈپارٹمنٹ سے ایسی کوئی ہدایت کسی تنظیم یاادارے کو دی گئی ہے؟ ان اہم مسئلو ں کو مائنارٹی ڈپارٹمنٹ حل کرکے تصویر صاف کرنی ہوگی ورنہ کئی بچے جنہیں پچھلی سال پری میٹرک اسکالر شپ ملی وہ امسال اسکالر شپ سے محروم رہ جائیں گے۔ (سید منیر ، سکریٹری رائل اکیڈمی پبلک اسکول ، تھنی سندرا ، بنگلور۔ فون :9482537033)


Share: